زکوٰۃ کیلکولیٹر — اردن جائیداد 2026 (JOD)

اردن 2026 میں جائیداد کے لیے مفت زکوٰۃ کیلکولیٹر۔ JOD لائیو قیمتیں، شافعی نصاب۔ فوری، علماء کی تصدیق شدہ۔

🏘️جائیدادزکوٰۃ کیلکولیٹر

🇯🇴اردن · JOD

1ترتیبات

فقہی مسلک

نصاب کی بنیاد

⚖️موجودہ نصاب: JOD 5,440.0085 گرام سونا

ℹ️ سونا: ~JOD 64.00/g · چاندی: ~JOD 0.72/g (تخمینی — لائیو قیمتوں سے جڑ رہا ہے...)

2آپ کے قابلِ زکوٰۃ اثاثے

🥇 سونا

سونے کی چیز 1

🥈 چاندی

JOD

بینک اکاؤنٹس، بچت، جمع، نقد رقم۔

JOD
JOD

تمام کرپٹو ہولڈنگز کی کل مارکیٹ ویلیو۔

JOD

انوینٹری + نقد + تجارتی وصولیاں۔ ثابت اثاثے (مشینیں، فرنیچر) خارج کریں۔

🏠 جائیداد

بنیادی رہائش مستثنیٰ ہے (علماء کا اجماع)۔ مندرجہ ذیل صرف فروخت کے لیے رکھی جائیداد یا کرایے کی آمدنی پر لاگو ہوتا ہے۔

JOD
JOD

صرف محفوظ کی گئی رقم — جائیداد کی قیمت نہیں۔

JOD

3قرضے اور واجبات

قرضوں پر شافعی حکم

شافعی مسلک قابلِ زکوٰۃ مال سے قرضوں کی کٹوتی کی اجازت نہیں دیتا۔ (ماخذ: المجموع — امام النووی)

4زکوٰۃ کے حساب کا نتیجہ

اپنا زکوٰۃ حساب دیکھنے کے لیے اوپر اپنے اثاثے درج کریں۔

اہم انتباہ

یہ کیلکولیٹر عام قبول شدہ علمی رہنمائیوں کی بنیاد پر ایک عمومی تخمینہ فراہم کرتا ہے۔ زکوٰۃ کی ذمہ داری انفرادی حالات، مسلک، اور مقامی علما کی آراء کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ کسی مستند اسلامی عالم سے رجوع کریں اپنی صورتحال کے لیے مخصوص حکم کے لیے۔ یہ آلہ کوئی فتویٰ یا شرعی حکم نہیں ہے۔

اردن میں جائیداد کی زکوٰۃ کے بارے میں

اردن میں سرمایہ کاری کی جائیداد اور کرایہ کی آمدنی پر زکوٰۃ کا حساب لگائیں۔ بنیادی رہائش علمائے کرام کے اجماع سے مستثنیٰ ہے۔ ہمارا کیلکولیٹر JOD میں کرایہ کی آمدنی کی زکوٰۃ اور فروخت کے لیے جائیداد کو ہینڈل کرتا ہے۔

شافعی مسلک کا حکم

Primary residence exempt. Rental income: Zakat on net income saved for a year. Property for resale: market value × 2.5%. No debt deductions.

ماخذ: اردن کی وزارت اوقاف

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا میرا گھر زکوٰۃ کے تابع ہے؟

نہیں۔ آپ کی بنیادی رہائش علمائے کرام کے اجماع سے زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے۔ صرف سرمایہ کاری کی جائیداد اور کرایہ کی آمدنی قابلِ زکوٰۃ ہیں۔

کرایہ کی آمدنی پر زکوٰۃ کیسے حساب لگائی جاتی ہے؟

زکوٰۃ خالص کرایہ کی آمدنی (اخراجات کے بعد) پر واجب ہے جو ایک قمری سال تک جمع کی گئی ہو۔ کرایہ کی آمدنی آپ کے کل نقد رقم میں شامل کر کے اکٹھی حساب لگائی جاتی ہے۔

کیا جس جائیداد کو میں بیچ رہا ہوں اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جی ہاں۔ دوبارہ فروخت کے لیے رکھی گئی جائیداد کو تجارتی سامان (عروض التجارة) سمجھا جاتا ہے۔ اگر نصاب سے زیادہ ایک قمری سال تک رکھی جائے تو زکوٰۃ موجودہ مارکیٹ ویلیو کا 2.5% ہے۔